35- 36th Issue of Istifsaar

35- 36th Issue of Istifsaar

Dear All

We are pleased to announce the arrival of a new issue of Istifsaar. This entire issue is dedicated to one of the finest critics, thinkers, and poets of Modern Urdu literature Jn Wazir Agha. The entire issue 5 sub-part contains around 43 entries. It is a mix of old and new submissions, which tries to highlight and underline Wazir Agha’s versatility and command on different aspects of art and literature. We are sure every avid reader of Urdu Literature will find this issue an important and unavoidable work in Wazir Agha Shanasi . We are also sure that this issue will attract more and more new readers towards Wazir Agha’ s contributions and work .

Team Istifsaar

Regards

Istifsaar-Wazir-Agha-No

Click Here to View full Pdf

5 thoughts on “35- 36th Issue of Istifsaar

  1. استفسار کا ڈاکٹر وزیر آغا نمبر
    اردو ادب کی روایت ہمیشہ سے اپنے عہد کے بڑے ادیبوں اور نقادوں کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کو محفوظ کرنے کی رہی ہے اسی روایت کی ایک خوبصورت اور بامعنی کڑی شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی ادارت میں شائع ہونے والا “استفسار” کا تازہ شمارہ ہے جو مکمل طور پر عہد ساز شخصیت ڈاکٹر وزیر آغا کے نام معنون ہے تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجلہ نہ صرف اپنے حجم کی وجہ سے وقیع ہے بلکہ اس کے مضامین اور یاد داشتیں وزیر آغا شناسی کے باب میں ایک سنگِ میل ہیں۔
    اس کی ابتدا اداریہ اور مضامین سے ہوتی ہے جو وزیر آغا کی شخصیت اور ان کے علمی و ادبی سفر کا ایک جامع خاکہ قاری کے سامنے رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آنے والے صفحات میں وہ یادیں اور تاثرات بکھرے ہیں جو وزیر آغا کے قریبی لوگوں نے بیان کیے ہیں یہ تحریریں وزیر آغا کے اندر موجود اس حساس اور نرم دل انسان کو آشکار کرتی ہیں جو درختوں کی چھاؤں، یادوں کے لمس اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشبوؤں میں اپنی روشنی تلاش کرتا رہا۔
    مجلے کا ایک نمایاں حصہ ان کی فکر اور نظریۂ فن پر مبنی ہے۔ یہاں ان کی تنقید، جمالیات اور تخلیقی بصیرت کو گہرائی سے پرکھا گیا ہے اس حصے میں وزیر آغا کا ادبی کینوس بے حد وسیع اور ہمہ گیر دکھائی دیتا ہے۔ ان مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ محض شاعر یا نقاد نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر تھے جو زندگی اور کائنات کے بڑے بڑے سوالوں پر غور و فکر کرتے رہے۔
    یہ شمارہ ان کی شاعری اور نثر کی تخلیقی جہتوں کو بھی نئے زاویے سے پیش کرتا ہے۔ ان کی نظموں کے تجزیاتی مطالعے جس میں ان کی علامتی اور شعری زبان کو مختلف اہلِ قلم نے اپنی بصیرت کے مطابق کھولا ہے۔ “دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا” جیسے عنوان نہ صرف ان کے اسلوب کی علامت ہیں بلکہ ان کے اندر کے شاعر کی روح کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
    اس خصوصی نمبر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مختلف معاصر ادیبوں اور شاعروں کے تاثرات بھی شامل ہیں۔ یہ تاثرات وزیر آغا کے ساتھ ان کی ملاقاتوں، علمی مباحث اور ذاتی یاد داشتوں پر مشتمل ہیں جو اس شمارے کو اور بھی جاندار بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ رسالہ محض تحقیقی و تنقیدی تحریروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ دستاویز ہے جس میں وزیر آغا کی شخصیت اور کام کے مختلف پہلو جھلکتے ہیں۔
    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “استفسار” کا یہ شمارہ وزیر آغا پر ہونے والی ہر سنجیدہ تحقیق کے لیے بنیادی حوالہ بن جائے گا۔ شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی یہ کاوش اردو ادب کے لیے ایک ایسا تحفہ ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اس شمارے کو پڑھتے ہوئے قاری کو بار بار اس بات کا احساس ہو گا کہ وزیر آغا کو جاننا ایک فرد کو جاننے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی ایک پوری عہد ساز روایت کو سمجھنے کے مترادف ہے۔

  2. جے پور سے شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی ادارت میں شائع ہونے والے وقیع ادبی رسالے ’ استفسار ‘ کا تازہ شمارہ ’ بیاد وزیر آغا ‘ دیکھ کر ، فوری طور پر تین سوال سامنے آ کھڑے ہوئے ؛ وزیر آغا پر ایک خاص شمارہ کیوں؟ کیا آج کے ادبی ، تنقیدی ، شعری اور تہذیبی رویّوں سے وزیر آغا کے کہے اور لکھے کی کوئی مطابقت ہے؟ اور ہم ، یعنی قارئین ، وزیر آغا پر کوئی خاص نمبر کیوں پڑھیں؟ ایک سوال اور ابھرا ، کیا وزیر آغا کا کہا اور لکھا ہوا لوگ اب بھی یاد رکھتے ہیں ، بالخصوص پاکستان میں ، جہاں کے وہ تھے؟ اِن سوالوں کے کچھ نہ کچھ جواب ، اس شمارے کی ورق گردانی کے بعد حاصل ہو جاتے ہیں ، لیکن جوابوں کا حاصل ہونا نہیں ، اس خاص نمبر کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے وزیر آغا کو جاننا ، پہچاننا اور سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے ۔ شمارے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، اداریہ جو شین کاف نظام کا تحریر کردہ ہے ، الگ سے ہے ۔ اداریے میں ’ بیاد وزیر آغا ‘ کی اشاعت کی غرض و غائت اور آج کے دور سے مطابقت پر صرف تین سطریں ہیں : ’’ ’ نیّر مسعود نمبر ‘ کے بعد جب عادل رضا نے ’ وزیر آغا نمبر ‘ کی ’ ضد بھری ‘ تجویز پیش کی تو میں چپ رہا ۔ معلوم نہیں میری خاموشی کا انھوں نے کیا مطلب نکالا ۔ کہنے لگے وزیر آغا کی ادبی اہمیت کے تو سب قائل ہیں رہی مطابقت کی بات تو وہ مستقبل کا معاملہ ہے ۔ میں نے کہا سوال اہمیت اور مطابقت کا نہیں ، سوال نئے مضامین کا ہے ۔ بات آئی گئی ہو گئی ۔‘‘ عادل رضا منصوری کا کہا سچ ہی ہے ’ مطابقت کا فیصلہ مستقبل کا معاملہ ہے ‘ لیکن کوئی فیصلہ کرنے کے لیے قارئین کے پیشِ نظر مواد کا رہنا ضروری ہے ، یہ ضروری کام جہاں نئے اور پرانے مضامین کی شکل میں قارئین کے لیے کیا کیا ہے ، وہیں اداریہ نویس کا اداریہ بھی ایسی ہی ایک ضروری تحریر ہے ۔ بالخصوص شین کاف نظام نے اداریے کا جو خلاصہ پیش کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ اب تک ہوئی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیر آغا کے لیے شاعری ایسی روشنی پھیلانے والی شے ہے جو انھیں تخلیقی ترغیب دیتی ہے ۔ تہذیب اور تہذیب کے ثمر شیریں ، شعر کی تفہیم میں ان کے لیے ’’ کیوں کہا ‘‘ کی بھی وہی اہمیت ہے جو ’’ کیا کہا ‘‘ کی ہوا کرتی ہے ۔ یہ کیوں کہا ہی ہے جواُنھیں ارضی الجھنوں کے ساتھ ساتھ افلاکی معاملات سے بھی روبرو کر دیتی ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہےکہ وہ تہذیب کو کلچر ( ثقافت ) کے بطن سے جنم لینے والی شئے ہی نہیں اس کا نقطۂ عروج اور گزرتے وقت کے ساتھ نقطۂ زوال بھی مانتے ہیں چونکہ ثقافت ( کلچر ) کو وہ غیب سے آنے والی چیز کہتے ہیں ۔ اس لیے افلاکی معاملات میں ان کا دلچسپی لینا عین فطری بات ہے ۔ ارضی الجھنوں کے لیے نفسیات اور افلاکی معاملات کا ادراک عالمی اساطیر کے عمیق مطالعہ سے حاصل کرنے والے وزیر آغا ارضی اور افلاکی رشتوں کی شناسائی کے لیے نفسیات و اساطیر دونوں سے امداد حاصل کرتے ہیں ۔ ان کی تحریروں کا بغور مطالعہ کریں تو ظاہر ہوگا کہ ارضیت میں اسطوریت اور اسطوریت میں اسراریت دیکھ سکنے کی سکت اور بصیرت انھیں کھلے پن سے حاصل ہوتی ہے ۔ دراصل وزیر آغا تہذیبی طبیعت کے ثقافتی سفیر ہیں اور امتزاج ان کا نصب العین ہے ۔‘‘
    مذکورہ اقتباس سے وزیر آغا کی ادبی اور تہذیبی فہم اور اُن کے فن کے کتنے ہی رنگ سامنے آجاتے ہیں ! اِن رنگوں کو ، اِس شمارے کے چاروں حصوں میں ، مختلف مضامین کے ذریعے الگ الگ طرح کے جملوں اور لفظوں میں پیش کیا گیا ہے ۔ پہلے حصے پر نظر ڈالنے سے قبل میں یہ واضح کردوں کہ پرانے مضامین پر کم ہی بات ہوگی ، نئے مضامین پر زیادہ ، کیونکہ نئے مضامین میں وزیر آغا کو آج کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ پہلا حصہ ’ یاد کے جھروکے میں ‘ عنوان سے ہے ، اس میں پانچ صفحات میں وزیر آغا کے کوائف دیے گیے ہیں ، اور معروف شاعر و مصوّر جینت پرمار کا بنایا ہوا اُن کا ایک شاندار اسکیچ ہے ۔ چار مضامین ہیں ، جن کے لکھنے والے رشید امجد ، انور سدید ، سجاد نقوی اور اقتدار جاوید ہیں ، جبکہ رؤف خیر کی ایک نظم ہے ۔ مضامین میں وزیر آغا کی یادیں سموئی ہوئی ہیں ۔ رشید امجد کے مضمون ’ وزیر آغا – چند بکھری بکھری یادیں ‘ سے چند سطریں ملاحظہ کریں : ’’ میں آخری بار جب ۲۲؍ جولائی کو اُن سے ملا تو اُن کا بیڈ کتابوں سے بھرا ہوا تھا ، اور صرف سونے کے لیے تھوڑی سی جگہ خالی تھی ۔ وہ نہ صرف باہر سے کتابیں منگواتے بلکہ ملنے والے ہر پرچے اور کتاب کو پڑھتے ۔ اُس دن بھی انھوں نے تازہ موصول ہونے والے رسائل اور کتابوں پر گفتگو کی ۔ اُن کی خوبی تھی کہ اپنے مطالعے میں دوستوں کو بھی شریک کرتے ۔ اُن کے خلاف جب منظم ادبی محاذ بنایا گیا تو کوئی نہ کوئی انھیں خوش کرنے کے لیے مخالفوں کا ذکر کرتا ، وہ عموماً خاموش رہتے اور دوسرے اِس موضوع پر بات کرتے رہتے ۔ لوگ ایک ایک کرکے جانا شروع ہوتے تو میں بیٹھا رہتا ۔ جب سب چلے جاتے تو میں اُن سے پوچھتا ، آپ نے اس دوران میں کیا کیا پڑھا ہے ۔ وہ بڑے خوش ہوتے اور دیر تک کسی نئی کتاب یا موضوع پر بے تکان گفتگو کرتے ۔‘‘ یہ سطریں ایک تصویر بناتی ہیں ؛ وزیر آغا کتابوں میں گھرے اپنے بیڈ پر بیٹھے یا دراز ہیں ۔ پتا چلتا ہے کہ انھیں اپنے مخالفین کی غیبت نہیں ، کتابیں پڑھنا اور اُن پر باتیں کرنا پسند تھا ۔ وہ ڈاک سے موصول ہونے والی کتابیں اور رسالے تک پڑھ جاتے تھے ۔ مطالعے کا یہ جنون — یا محبت کہہ لیں — ہی تھا ، جس نے انھیں ایک اعلیٰ تخلیق کار کے درجے پر لے جاکر بیٹھا دیا تھا ۔ رشید امجد کے اس مضمون سے پتا چلتا ہے کہ ’’ آخری دَم تک اُن کا تخلیقی شعور برقرار تھا ۔‘‘
    دوسرا حصہ ’ نظرِ ثانی ( جیسا سمجھا ، جیسا جانا ) ‘ کے عنوان سے ہے ، اس حصے میں مضامین کی تعداد اکیس ہے اور لکھنے والوں کی اکثریت آج کی ہے ۔ شہناز نبی کے مضمون بعنوان ’ وزیر آغا کی تنقیدی بصیرت ‘ سے اس حصے کا آغاز کیا گیا ہے ۔ وہ ایک جگہ لکھتی ہیں : ’’ وزیر آغا مختلف نظریاتِ تنقید سے واقفیت رکھنا بُرا نہیں سمجھتے لیکن انھیں اس بات پر اعتراض ہے کہ ادبی فن پارے کو کسی نظریے کی روشنی میں دیکھنا ضروری قرار دیا جائے ۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتی ہیں : ’’ وزیر آغا تنقید کو تخلیقی عمل مانتے ہیں ۔‘‘ ویسے سچ تو یہی ہے کہ ایک صاحبِ مطالعہ نقاد کی تنقید ’ تخلیقی عمل ‘ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو سکتی ۔ شہناز نبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ دوسرے ناقدین کے مطابق ’’ وہ اکثر موضوع سے بھٹک جاتے ہیں اور مختلف موضوعات کو الجھا دیتے ہیں ۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے ؟
    اس شمارے میں رفیق سندیلوی کا ایک وقیع مضمون ’ وزیر آغا کا کلچرل شعور ‘ شامل ہے ، جس کی ذیل کی سطریں وزیر آغا کی تخلیق اور قاری کے درمیان ایک ربط کی بات کرتی ہیں : ’’ ان کی تحریریں نہ صرف فنِ تنقید کے نئے امکانات کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ انسانی تہذیب ، اساطیر ، ثقافت ، جمالیات اور نفسیات جیسے متنوع موضوعات کو آپس میں جوڑ کر ایک نئی فکری جہت کو جنم دیتی ہیں ۔ وہ ادب کو زندگی کے کلچر سے جدا نہیں کرتے بلکہ اُسے اس کے عمیق معنوں میں دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ اُن کے یہاں تنقید ایک مجرد تجزیاتی عمل نہیں بلکہ ایک ایسا امتزاجی رویہ ہے جو مختلف علوم و فنون کی سرحدوں کو عبور کرتا ہوا تخلیق اور قاری کے بیچ ایک زندہ ربط پیدا کرتا ہے ۔‘‘
    وزیر آغا کو سمجھنے کے لیے اس شمارے میں شامل ناصر عباس نیر کا مضمون ’ وزیر آغا اور نئی تنقیدی تھیوری ‘ کا مطالعہ لازمی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ وزیر آغا نے ’ اپالوجی ‘ نہیں تنقید لکھی ہے ۔‘‘ مزید لکھتے ہیں : ’’ وزیر آغا کی تنقید کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں ’ تجسس اور انحصار ‘ شروع سے آخر تک برقی رَو کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں : ’’ وزیر آغا اردو کے ان اوّلین لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے نئی تنقیدی تھیوری پر تفصیل سے لکھا اور نتیجتاً تھیوری زیر بحث آئی ۔‘‘ اس حصے میں پروفیسر شافع قدوائی ، خالد جاوید ، شہزاد انجم ، سرور الہدی ، ایم خالد فیاض ، سفینہ بیگم ، فیضان الحق اور دوسرے لکھنے والوں کے وقیع مضامین ہیں ، جن میں وزیر آغا کے متنوع ادبی نظریات اور تصنیفات پر بھرپور بات کی گئی ہے ۔
    رسالے کا تیسرا حصہ ’ تخلیق اور تفہیم ‘ کے عنوان سے ہے ، اس حصے میں وزیر آغا کی چَودہ شعری تخلیقات کی تفہیم کی گئی ہے ۔ تفہیم نگاروں میں بلراج کومل ، کمار پاشی ، شمس الرحمٰن فاروقی سے لے کر مقصود دانش اور شہرام سرمدی و عنبر جیسے نئے اور پرانے ادیبوں اور شاعروں کے نام شامل ہیں ۔ آخری حصہ ’ گفتگو ‘ کے عنوان سے ہے ، اس میں وزیر آغا کے مختلف انٹرویو کو اس طرح سے ایڈٹ کرکے مرتب کیا گیا ہے کہ اُن سے جن سوالوں کے جواب کی امید کی جا سکتی تھی وہ سب تقریباً آگیے ہیں ۔ یہ گفتگو وزیر آغا کے نظریات کو مکمل طور سے سامنے لے آتی ہے ۔ اس خوبصورت نمبر سے ان سوالوں کے ، جو اوپر کیے گیے ہیں ، جواب مل جاتے ہیں ؛ وزیر آغا آج بھی پڑھے جاتے ہیں ، اور انہیں پڑھا جانا بھی چاہیے کہ ایک صاحبِ مطالعہ شخص کی تحریریں دل و دماغ کو روشن کرتی ہیں ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خاص شمارہ وزیر آغا کو سمجھنے کی ایک کلید ہے ۔ شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری اس شمارے کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

  3. ‘استفسار’ کا ‘بیادِ وزیر آغا’

    گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں، ‘امروز’، ‘استفسار’، اور ‘اثبات’ تین ایسے رسائل ہیں جو بلاناغہ نظر نہیں بلکہ میرے مطالعے میں رہے ہیں۔ گاہ گاہ اس کا ذکر بھی کیا۔ تینوں رسائل کے پسِ پشت منصوبہ و ہدف سے بھی قارئین باخبر و آگاہ ہیں جس کی تائید ذکر کردہ رسائل کے مشمولات سے بھی بہ آسانی ممکن ہے۔
    ‘امروز’، درس و تدیس سے وابستہ احباب کے توسط سے، ایک سنجیدہ علمی و ادبی تسلسل کو استحکام بخشنے کی راہ پر گامزن ہے۔ ‘استفسار’، ادب کے ذریعے ایک نوع کی عمارت سازی کے مانند اور قابلِ توجہ عمل کے مترادف ہے اور ‘اثبات’، ادب و دنیا کو تخلیقی رجحان کے ساتھ روشناس کرانے کی تخلیق و شکم کی آگ۔
    وزیر آغا شناسی کی رُو سے، ‘استفسار’ کا پیشِ نظر شمارہ ‘بیادِ وزیر آغا’ عمدہ و کار آمد مواد پر مشتمل ایک قابلِ مطالعہ شمارہ ہے۔ سوا چار سو سے زیادہ صفحات پر پھیلا یہ شمارہ وزیر آغا کی شخصیت، تنقید، انشائیہ نگاری اور شاعری وغیرہ کے مختلف پہلوؤں پر عمدہ اور بھرپور معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس شمارے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اداریہ، یاد کے جھروکے میں، نظرِ ثانی، تخلیق اور تفہیم اور گفتگو۔
    شین کاف نظام کا لکھا اداریہ پڑھنے اور سمجھنے کی چیز ہے۔ بڑے سہج انداز میں مختلف باتیں رکھی ہیں اور اہم بات یہ کہ کسی بھی بات پر، کسی طرح کا ذاتی یا شخصی اصرار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو مقامِ استغناء کی کیفیت کا احساس دلاتی ہے۔ اس اداریے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ زبان اور بیان کا معاملہ ‘من تو شدم تو من شدی’ جیسا لگتاہے۔ صرف ایک مثال:
    ” وزیر آغا کا یہ کُھلا پن ہی ان کی اہمیت و مطابقت کا ثبوت ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے مختلف کرتا ہے’۔
    تنقیدی پَرَکھ کی نگاہ سے درج بالا اقتباس میں لفظ ‘مختلف’ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بیان میں ایسا اعتدال اور زبان کا اس طرح ساتھ دینا، ہمارے یہاں کم ہی لکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے اور کم ہی ناقدین کے یہاں نظر آتا ہے۔
    جہاں تک ہمارے یہاں ناقدین کے تنقیدی رویے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں اتنا ضرور عرض کیا جا سکتا ہے کہ وزیر آغا کی بات کا پاس انگشت شمار ناقدین ہی نے رکھا ہے۔ بقول وزیر آغا،
    “تخلیق کی پَرَکھ میں اس زاویے یا زاویوں کو بروۓ کار لاۓ جن کی طلب خود تخلیق میں موجود ہو۔”
    نقل کردہ بالا اقتباس کی روشنی میں دیکھا جاۓ تو اس وقت ہمارے یہاں اس میزان پر پورا اترنے والا ناقد شاید ہی ملے۔ اس سلسلے میں مزید کچھ کہنا اپنے بیشتر ناقدین کی انا کو مجروح کرنا ہوگا کیونکہ تنقید سہنے کے ظرف کے معاملے میں، ہمارے تخلیقی قلم کاروں کا سینہ، ہمارے موجودہ ناقدین کے مقابلے زیادہ کشادہ ہے بہ الفاظِ دیگر ہمارے بیشتر تخلیقی قلم کار، ہمارے اکثر ناقدین کی مانند تنگئ سینہ کے مریض نہیں ہیں۔
    مذکورہ تنگئ سینہ کے مرض کے سبب، پیشِ نظر شمارے میں شامل ناقدین کی تحریر پر راۓ دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ بعض ناقدین کی ذات میں، انتہائی گہرائی تک پیوست احساسِ برتری، ان کے اپنے کام پر تنقید برداشت کرنے کا اہل نہیں۔ انہیں خبر ہی نہیں کہ حضرتِ حسین، ابنِ علی ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی ذات میں نانا کی پاکیزگی و بزرگی کے جواہر دیکھ کر، اہلِ دل انہیں نواسۂ رسول کہہ کر یاد کرتے ہیں۔
    غالباً ۱۹۹۸ کا واقعہ ہے جب شہریار صاحب نے ‘چہک اٹھی لفظوں کی چھاگل’ کا ایک نسخہ بطورِ عیدی مجھے دیا تھا۔ اس کے بعد کئی برس تک وزیر آغا کی شاعری مطالعہ میں رہی۔
    شہریار صاحب کا ذکر نکلا ہے تو ان کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ ایک مرتبہ انہوں کہا تھا کہ ایک تخلیقی ذہن کو تعمیری کاموں میں زیادہ الجھنا نہیں چاہیے کیونکہ اس کا اثر اس کے تخلیقی کاموں پر پڑتا ہے۔ احباب جانتے ہیں کہ شہریار صاحب کے یہاں فلسفہ و دانشورانہ موشگافیوں کے بجائے تجربہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس بات کی تائید ساقی فاروقی کے نام ان کے ایک خط کے ذریعے بھی ہوتی ہے انہوں نے لکھا تھا،’تم نے دنیا دیکھی ہے تو میں نے دنیا برتی ہے’۔
    وزیر آغا کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ان کے یہاں بھی تعمیری کام اچھی خاصی تعداد میں انجام دیا گیا ہے۔ جو اپنے آپ میں انہیں ایک قابلِ قدر ادبی شخصیت کی حیثیت سے ہمارے ادب میں قائم کرتا اور امتیاز بخشتا ہے۔ البتہ جب وہ کہتے ہیں، ‘شاعری میری پہلی اور آخری محبت ہے’ تو شہریار صاحب کی بات بہت یاد آتی ہے۔ وزیر آغا کے ادبی سفر کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی پہلی اور آخری محبت کو ‘دل سے’ اس کا حق دینے میں پِچھڑ گئے۔ ان کی شاعری قاری کو خاطر خواہ جذب نہیں کرتی۔ وہ زبان اور بیان کا ایک دیدنی معاملہ معلوم ہوتی ہے۔
    اس شمارے میں ‘گفتگو’ کے عنوان کے تحت عادل رضا منصوری نے جس طرح وزیر آغا کے مختلف انٹرویوز کو ترتیب و تدوین کے ذریعے ایک گفتگو کی شکل دی ہے وہ مطالعے کی چیز ہے۔
    مختصر یہ کہ ‘استفسار’ کا ‘بیادِ وزیر آغا’ اپنے سنجیدہ ترتیبی
    رویے اور مشمولات کے سبب بھرپور استقبال کا حق رکھتا ہے۔

  4. یہ رسالہ “استفسار” (ISSN 2394-0778) اردو ادب کا ایک سنجیدہ اور معتبر جریدہ ہے جو جے پور (راجستھان، ہندوستان) سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے مدیرانِ اعلیٰ شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری ہیں ۔ دونوں ہی اردو ادب کے فعال اور فکری طور پر بیدار اہلِ قلم ہیں جنہوں نے اس رسالے کو نہ صرف ادبی وقار عطا کیا ہے بلکہ اسے تنقید، تحقیق، شاعری، اور فکشن کے متوازن امتزاج سے ایک جامع ادبی مجلہ بنا دیا ہے۔
    “استفسار” محض ایک رسالہ نہیں بلکہ اردو ادب کے معاصر منظرنامے میں ایک فکری مکالمہ ہے۔ اس کے ہر شمارے میں موضوعاتی ربط، فکری گہرائی، اور تخلیقی تنوع نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔
    موجودہ شمارہ جنوری – جون 2025 (شمارہ 35–36) ایک خصوصی اور کتابی سلسلے کے طور پر (بیاد وزیرآغا )شائع ہوا ہے، جس کی ترتیب و اشاعت نہایت خوبصورت اور پیشہ ورانہ معیار کی حامل ہے۔
    اداریہ میں شین کاف نظام نے مشرقی و مغربی شعریات کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے نہایت بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ رائنر ماریا رلکے (Rilke) کے ایک اقتباس سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وہ شاعری کے علم و وجدان کو ایک مخصوص عرفانی تجربہ قرار دیتے ہیں۔
    یہ اداریہ اپنے فکری مواد کے اعتبار سے اردو کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک علمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس میں شاعری کی روح، وجدان، اور تخلیقی عمل پر گہری نظر ڈالی گئی ہے۔
    رسالے کا فہرستِ مضامین اس کی وسعتِ فکر کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ اس میں درج ذیل اہم حصے شامل ہیں:
    شمارے کا پہلا حصے “یاد کے جھروکے میں”ہے جس میں وزیرآغا کی یاد میں مختلف اہلِ قلم کی تحریریں شامل ہیں۔یہ حصہ بیک وقت تحقیقی، تجزیاتی اور شخصی نوعیت کا ہے جس میں رشید امجد،انور سدید،سجاد نقوی،اقتدار جاوید اور رؤف خیر کے مضامین شامل ہیں۔
    جیسا سمجھا، جیسا جانا” کے زیرِ عنوان وزیرآغا کے نظریات پر تفصیلی مکالمہ پیش کیا گیا ہے۔تنقید، ادبی نظریہ، اور فلسفۂ فن کے حوالے سے یہ حصہ علمی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔اس حصّے میں شہناز نبی،رفیق سندیلوی، ناصر عباس نیر،شافع قدوائی، امین راحت چغتائی، رفیق سندیلوی،نند کشور آچاریہ،مصور سبزواری،خالد جاوید،شہزاد انجم،سرور الہدی، معراج رعنا،منور عثمانی، صوبیدار محمد رفیع اظہر،شبیر احمد، عابد خورشید، ایم۔خالد فیاض، سفینہ بیگم،عمر فرحت،معاذ احمد اور فیضان الحق کے خیالات شامل ہیں۔
    “تخلیق اور تفہیم کے تحت”مختلف ناقدین و محققین نے اردو شاعری، تنقید، اور جمالیات پر مدلل مضامین تحریر کیے ہیں، جن میں بلراج کومل، کمار پاشی،شمس الرحمن فاروقی، مرزا حامد بیگ،قمر جمیل،عزیز پریہار پروین طاہر،مقصود دانش،نجمہ منصور، زو الفقار احسن،نثار راہی،شہرام سرمدی اور عنبر کے نام نامی اسم گرامی شامل ہیں۔
    ایم۔خالد فیاض، سفینہ بیگم، عمر فرحت، اور فیضان الحق کے مقالات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ادبی رسائل میں انٹرویوز شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن استفسار کے زیر نظر شمارے میں اس سلسلے میں ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وزیر آغا سے لیے گئے مختلف انٹرویوز کے اہم سوالات کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ہے جس سے ندرت پیدا ہو گئی ہے۔یہ شمارہ دراصل وزیر آغا کی یاد میں ایک خصوصی نمبر ہے، جس میں ان کے فن، فکر، تنقید، اور شاعری کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔اردو ادب میں وزیر آغا کی حیثیت کسی دبستانِ فکر کے بانی کی سی ہے ۔ان پر اس قدر جامع اور علمی انداز میں گفتگو اس سے قبل کسی اور رسالے میں کم ہی دیکھنے کو ملی۔ان کے نظریۂ جمالیات، شعریات، اور “انسانی تجربے کی روحانی توسیع” پر متعدد علمی مضامین اس شمارے کو تحقیقی و تنقیدی ادب کے لیے ایک مرجع بناتے ہیں۔طباعت اعلیٰ معیار کی ہے۔کاغذ اور سرورق کا ڈیزائن (جسے جمالیاتی ذوق سے آراستہ کیا گیا ہے) دیدہ زیب ہے۔ترسیلِ زر کی معلومات (بشمول ویب سائٹ اور ای میل) رسالے کی تنظیمی شفافیت کو ظاہر کرتی ہیں۔مدیران نے بین الاقوامی سطح پر قارئین کے لیے رابطہ آسان بنا دیا ہے، جو ایک مثبت پہلو ہے۔مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ”استفسار” (جنوری – جون
    2025) اردو کے سنجیدہ ادب دوستوں کے لیے ایک علمی، تحقیقی، اور فکری مجلہ ہے جو اپنے موضوع، ترتیب، اور معیارِ تحریر کے لحاظ سے اردو جرائد میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔یہ شمارہ وزیر آغا کے فکری ورثے کو نئی نسل کے ذہنوں تک منتقل کرنے کا قابلِ تحسین کارنامہ ہے۔
    استفسار اردو ادب کے مکالماتی
    شعور کا استعارہ ہے جہاں ادب صرف پڑھا نہیں جاتا، سمجھا بھی جاتا ہے۔
    رفیق سندیلوی، امین راحت چغتائی، خالد جاوید، شمس الرحمٰن فاروقی وغیرہ کی تحریریں اس شمارے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں

Leave a Reply to Shahram Sarmadee Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Current ye@r *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Please fill out your details. And Download Our Pdf!