33- 34th Issue of Istifsaar

33- 34th Issue of Istifsaar

We are here with yet another humble submission. First of all we would like to thank you all for your love, affection and support.

This time we are starting an interesting series. Though it is not a new experiment but and in Urdu also it not been carried out first time but yes same has been done long back.

The experiment is titled as “ Aik Takhleeq – Aik Tafheem”, in which we are presenting the critical analysis of few poems and short stories. But the most important part is we have kept the name of the poet / stories writer hidden from the critic, now he/she has only the creation and he/she is not aware about the poet/ writer, so whatever he/she feels it’s all about the text.

Rest of the issue has been divided into 9 sub parts including Idariya, Yaad –e- RaftgaaN , Nazar-e-saani, Jaisa dekha jaisa jana ,Un suni NazmeN, Afsana aur maiN, Ghazal ki wadi se, Jahan e Deegar , Book Shelf and Istifsaar Aap ki Nazar MeiN.

As we always do, we have maintained the balance of all generations in this issue as well. In total entries pertaining to 53 different poets, writers and critics from different part of the world found place in this issue.
We are hopeful that like previous issues, this issue will also make inroad into the literary world and will be appreciated.
We thanks and appreciate the support of all the contributors, readers and entire literary fraternity.

Team Istifsaar

Regards

Click Here to View full Pdf

5 thoughts on “33- 34th Issue of Istifsaar

  1. اردو میں اب ایسے رسائل کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے جو ایک جانب ادبی معیار سے کوئی سمجھوتا نہ کرتے ہوں تو دوسری طرف سنجیدگی کے ساتھ عصری میلانات اور مستقبل کے رجحانات کی تشخیص و تشکیل میں پیش پیش ہوں۔ کسی رسالے کا مدیر محض ڈاکیہ نہیں ہے کہ فنکاروں کی تخلیقات جمع کرے اور قارئین تک پہنچا دے۔ افسوس کہ اکثریت ایسے ہی مدیران کی ہے۔ بلکہ وہ تخلیقات کے انتخاب کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ، بس اپنے رسالے کو کسی طرح یو۔جی۔سی کیئر لسٹ میں شامل کرا لیتے ہیں اور اپنے ISSN کی ایسی تشہیر کرتے ہیں کہ جامعات کے ریسرچ اسکالر (یہاں تک کہ اساتذہ بھی) ادھر ادھر سے مارے ہوئے مقالات ہی نہیں بھیجتے ، ایک خاصی بڑی رقم کی نذر بھی گزرانتے ہیں۔
    ان حالات میں سہ ماہی استفسار ، جےپور کا مطالعہ کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اس میں کسی سطحی تخلیق کی کوئی گنجائش نہیں۔ کاپی پیسٹ مقالات یا مکھی پر مکھی بٹھانے والی تحقیق کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ فرسودگی ، عامیانہ پن یا لکیر کا فقیر ہونے کی اجازت نہیں۔ معیاری اور دلچسپ تخلیقات ، تجزیاتی اور بصیرت افروز تنقید ، مفید اور مدلل تلاش و جستجو کو نمایاں کرتی ہوئی تحقیق اور بساطِ ادب کے تازہ واردوں کی رہنمائ اور پذیرائی وہ عناصر ہیں جن سے “استفسار” وجود میں آتا ہے۔ اس کا تازہ شمارہ اپنے اسی وجود کا روشن استعارہ ہے۔ میں عمداً اس کے مشمولات پر گفتگو نہیں کر رہا ہوں کہ یہ ایک چھوٹی سی پوسٹ ان کا حق ادا نہیں کر سکتی اور پھر یہ بھی ہے کہ آپ اسے خود حاصل کریں اور فیصلہ کریں کہ میں نے استفسار کی صحیح تعریف کی ہے یا نہیں۔
    ایسے بہترین رسالے کے لیے بہت شکریہ بھائی عادل رضا منصوری۔

  2. اچھے رسائل کا قحط ہے آپ نے اپنی قایم کردہ روایت کو قایم رکھا ہے یہ بہت بڑی بات ہے اسے ہی دیوانگی اور شوق کا نام دیا جاتا ہے اس شمارے کے مشمولات یہ بتا رہے ہیں کہ آپ اعلا اور معیاری تحریروں کو حاصل کرنے کے لیے کتنی جداجہد کرتے ہیں تب استفسار کا معیار یکساں طور پر قایم ہے اس وقت استفسار ہی سے بجا طور پر بہتر توقع کی جاسکتی ہے خدا آپ کے حوصلوں کو قایم رکھے

  3. آپ رسالے کو بلکل اچھوتے انداز میں چلا رہے ہیں اردو والوں کے درمیان اسے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔اپ کے کور پیج ڈیزائن سے لیکر خطوط تک سارا مواد پڑھ ڈالا بس افسانے رہ گئے وہ میں دھیرے دھیرے پڑھتا ہوں کیونکہ افسانوی ادب سے والہانہ عشق ہے۔عمیق حنفی مرحوم کی تحریر سے آنکھیں روشن ہوئیں۔بہت فکر انگیز مضمون ہوگا کاش مکمل پڑھنےکو مل جاتا۔نظموں کے تجزیے نظموں سے ذیادہ متاثر کن ہیں۔خاکہ نگاری میں غضنفر کا اپنا اسلوب ہے۔عتیق اللہ صاحب پر ان کی تحریر خاکہ بھی ہے اور خراج تحسین بھی۔نظمیں اور غزلیں بھی آپ کے پرچے کے مزاج اور معیار کی ہیں۔فاروق انجینئر کی رباعیوں نے دھیان کھینچا ۔بہت سے مشمولات سے عدم اتفاق کے باوجود میں آپ کی کاوشوں کا مداح ہوں ۔اس لئے کہ راجستھان جو ایک زمانے میں کتنے ناموں سے جگمگاتا تھا اب وہاں سناٹے پسر گئے ہیں۔بڑی عجیب وغریب بات ہے اردو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر باذوق اردو والے عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔مگر مجھے بھروسہ ہے استفسار کی آواز صدا بصحرا ثابت نہیں ہوگی۔یہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔اللہ آپ کے ذوقِ گھر پھونک تماشہ کو قائم رکھے۔آپ کا مخلص فاروق بخشی

  4. استفسار : صوری اور معنوی دونوں لحاظ سے ایک خوب صورت مجلّہ
    (اس تعارف و تبصرہ میں شبیر احمد کے ناول ‘ جگ بانی’ کا ذکر نہیں ہے کیونکہ میں اسے قسط وار کی بجائے مکمل پڑھنا چاہتا ہوں، مکمل پڑھ کر کوئی رائے قائم کرنا زیادہ بہتر ہے)
    تعارف و تبصرہ : شکیل رشید
    شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی ادارت میں شائع ہونے والے ادبی مجلے ’ استفسار ‘ کا نیا شمارہ (34 – 33) اپنے اندر وہ تمام خوبیاں سموئے ہوئے ہے ، جو ایک وقیع ادبی رسالے کا خاصہ ہوتی ہیں ۔ فکشن اور نظم و نثر کی دیگر اصناف کا معیار اعلیٰ ہے ، اور تجربات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس شمارے میں بھی گزشتہ شمارے کی طرح ’ ایک تخلیق ایک تفہیم ‘ کے عنوان سے پانچ نظم نگاروں کی تخلیقات کی تفہیم پانچ شعراء سے کرائی گئی ہے ۔ گزشتہ شمارے کی تخلیقات کے شعراء کے نام پوشیدہ رکھے گیے تھے ، شاید اس شمارے میں بھی ویسے ہی کیا گیا ہے ۔ اس طریقے کا ایک خوب صورت پہلو ، کسی شاعر کے نام سے مرعوب نہ ہونا ، اور تفہیم کرنے والے شاعر کا ہر طرح کی جانبداری اور تعصب سے محفوظ ہونا ، ہے ۔ اس شمارے کی تخلیقات کے شعراء ہیں جمیل الرحمن ، شبنم عشائی ، دانیال طریر ، زاہد امروز اور سدرہ سحر عمران ۔ نظمیں معیاری ہیں اور تجزیے بھی ۔ ایک مثال ملاحطہ کریں ، نظم دانیال طریر کی ہے ، عنوان ہے ’ تعاقب سوال کی منزل ‘ اور تجزیہ سہرام سرمدی کا ہے ۔ نظم طویل ہے ، اس کے چار مصرعے پیش ہیں ، تجزیہ بھی انہی مصرعوں کا ہے؎
    ’’ یہ کیسی صدا ہے
    جِسے میں نے اور خاموشی نے سنا ہے
    یہ میری نہیں
    کیا کوئی دوسرا ہے ‘‘
    تجزیہ ملاحظہ کریں : ’’ اوپر دیے گیے مصرعے باہمی ربط کے لحاظ سے مقدور قدر چست نہیں ہیں ۔ تیسرا مصرعہ الگ تھلگ سا پڑا نظر آتا ہے کیوں کہ ’’ یہ میری نہیں ‘‘ کی تلاش کے لیے قاری کو مصرعہ اول کی طرف پلٹنا پڑتا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے دوبارہ نیچے آنا پڑتا ہے ۔‘‘ تجزیہ لاجواب ہے ۔ باقی کے تجزیے بھی شاندار ہیں جو ارشد عبدالحمید ، تفسیر حسین ، معیدالرحمٰن اور شاہ رُخ عبیر کے ہیں ۔ یہ ایک اچھا سلسلہ ہے ، مدیران سے استدعا ہے کہ وہ افسانہ کی صنف میں بھی ایسا ہی تجربہ کریں ۔
    اس شمارے میں ’ یاد رفتگاں ‘ کے تحت آنجہانی گوپی چند نارنگ کو یاد کیا گیا ہے ۔ دو مضامین ہیں اور دونوں ہی وقیع ہیں ۔ خواجہ محمد اکرام الدین کا مضمون بعنوان ’ مشرقی شعریات اور گوپی چند نارنگ ‘ ہے ، وہ لکھتے ہیں : ’’ پروفیسر نارنگ نے نظریہ سازی کا تصور پیش کرتے ہوئے مشرق کو ہمدوش رکھا ۔ یہی نارنگ صاحب کی تنقید کی انفرادیت اور خاصیت ہے ۔‘‘ خواجہ اکرام الدین اپنی بات کے حق میں نارنگ صاحب کی کتابوں سے حوالے بھی دیتے ہیں ، جو اس مضمون کی اہمیت کو دو چند کرتے ہیں ۔ دوسرا مضمون حقانی القاسمی کا ہے ’ اردو اور ہندی کی مصنوعی تقسیم اور گوپی چند نارنگ ‘ ۔ اس مضمون میں نارنگ صاحب کی ایک بڑی خوبی یوں بیان کی گئی ہے : ’’ زندگی کی آخری سانس تک نارنگ نے اردو تہذیب کو اپنی ذات کا جزو بنائے رکھا جبکہ مسلمانوں کے اشرافیہ طبقہ نے بہت پہلے اردو زبان اور کلچر سے دوری بنا لی تھی ۔‘‘ یاد رہے کہ نارنگ کی مادری زبان سرائیکی تھی ! ہندی اور اردو زبانوں کے بارے میں ، بقول حقانی القاسمی نارنگ کا ماننا تھا : ’’ دونوں زبانوں میں دوریاں اور مصنوعی تقسیم ، سیاست کی زائیدہ ہیں ۔‘‘ یہ ایک بہت طویل تو نہیں مگر تفصیلی مضمون ہے ، اور حقانی القاسمی نے اپنی باتیں مدلّل انداز میں پیش کی ہیں ۔ اس شمارے میں غضنفر کا تحریر کردہ ایک خاکہ بعنوان ’ وہ چاہتا ہے کیا جائے اعتبار اس پر ‘ شامل ہے ۔ غضنفر اچھے خاکے لکھ رہے ہیں ، اُن کی خاکوں کی ایک کتاب کچھ پہلے شائع ہوئی ہے ۔ یہ خاکہ ایک منفرد انداز میں تحریر کیا گیا ہے ، وہ یوں کہ خاکہ کے آخر میں ، جس شخصیت پر خاکہ لکھا گیا ہے ، اس کا نام آتا ہے ؛ عتیق اللہ ۔ لیکن جو عتیق اللہ سے واقف ہیں اُنہیں خاکہ پڑھتے ہوئے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کسی اور کا نہیں عتیق اللہ کا خاکہ ہے ۔ اور یہ خاکہ کی کامیابی ہے ۔ اس شمارے میں خالد علوی ، شافع قدوائی ، ناصر عباس نیر ، اورنگ زیب نیازی ، قاسم یعقوب ، معراج رعنا ، عبدالرحمن فیصل اور محمد باقر حسین کے آٹھ مقالے ہیں ، سب ہی شاندار ۔ خالد علوی نے پنڈت رتن ناتھ سرشار کے محاکاتی اسلوب اور لغت پر تفصیل سے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے ۔ شافع قدوائی نے افتخار عارف کی کلیات ’ سخن افتخار ‘ کے حوالے سے اُن کے یہاں قربانی کی حِسی جمالیات کے شعری اظہار پر بات کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : ’’ افتخار عارف کے نزدیک واقعہ کربلا کا آفاق گیر اور لازمی تجربہ صرف اساسی اخلاقی اور دینی فعل تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی سے وابستہ تمام کیفیات اور احساسات سے ہے اور یہ ایک ایسی تجربی محدود صداقت ہے جس کا گواہ خود انسانی وجود ہے ۔ معصومیت ، ایثار اور نجات کی از لی انسانی خواہش کس طرح بدعنوانی ، تشدد ، انتشار مکر و فریب اور مایوسی کی شدید کیفیت سے عہدہ برآ ہوتی ہے یا تطہیر ، سالمیت ، یکجہتی ، عافیت اور رجائیت تک رسائی کا مرحلہ کیسے طے ہو اور کیا قربانی اس کے حصول کا سب سے موثر وسیلہ ہے؟ کیا قربانی خود ضبطی اور خدا سے ذاتی رابطے کا استعارہ بن جاتی ہے؟ نا انصافی ، ظلم ، تشدد ، اعتماد شکنی ، فریب دہی اور جبر و تعدی کی فضا میں قربانی کیا انسانی وجود کی موجودگی کی ضامن بن جاتی ہے ؟ کیا قربانی شق کی تشدید کا استعارہ ہے اور کیا دعا یا عقائد کا اثبات اور اعمال کی بجا آوری بھی قربانی کے وسیع تر بیانیہ عرصے کو خلق کرتی ہے؟ افتخار عارف کی شاعری اسی مرکزی موضوع کے پہلودار حِسی اظہار سے عبارت ہے ۔‘‘
    ناصر عباس نیر کا مضمون ’ مصنوعی ذہانت بمقابلہ انسانی تخیل ‘ آج کے گرما گرم موضوع AI پر ہے ۔ نیر صاحب پہلے تو ڈراتے ہیں لیکن پھر امید بھی بندھاتے ہیں ۔ یہ ایک بہترین تحریر ہے ۔ باقی کے مضامین بھی اپنے اپنے موضوع کا پورا حق ادا کرتے ہیں ۔ نظموں اور غزلوں کا انتخاب شاندار ہے اور کیوں نہ ہو ، مدیران خود بہترین شاعر جو ہیں !
    اس شمارہ میں تین افسانے ہیں اور تینوں ہی منتخب ہیں ۔ صدیق عالم کا افسانہ ’ وبا ‘ پڑھتے ہوئے مجھے بار بار ان کا ناول ’ مرگِ دوام ‘ یاد آتا رہا ۔ شاہد اختر نے محبت کی ایک انوکھی کہانی لکھی ہے ’ دھوپ ‘ ۔ یہ کہانی دل کو لگتی بھی ہے اور آنکھیں بھگوتی بھی ہے ۔ نورین علی حق کا افسانہ ’ مخدوش لاش کا بیانیہ ‘ قمر احسن اور سجاد انور اور ایسے ہی دیگر لکھنے والوں کی یاد دلاتا ہے ۔ یہ علامتی ، استعارتی اور تشبیہاتی افسانہ بوجھل نہیں ہے ، لہذا امید بندھتی ہے کہ نورین علی حق آئندہ بھی ایسی علامتی کہانیاں لکھیں گے جو اپنی شگفتہ نثر کے سبب لوگ دلجسپی سے پڑھیں گے ۔ شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کو اس قدر خوب صورت – صوری طور پر بھی اور معنوی طور پر بھی – ادبی مجلہ دینے کے لیے بہت بہت مبارک ہو ۔ اس شمارے کا سرورق عادل رضا منصوری کا بنایا ہوا ہے

  5. استفسار کا تازہ شمارہ تو بہت پہلے ہی میرے گھر پہنچ گیا تھا مگر گھر سے دوری کے سبب میرے ہاتھوں میں آتے آتے دیر ہوگئی ۔ بہر کیف رسالہ اب میرے سامنے ہے اور میں اس کے مشمولات سے لطف اندوز ہورہا ہوں۔ اداریہ میں عمیق حنفی صاحب کی مختصر سی تحریر ہے جس میں مشرق اور مغرب کے ادبی مزاج کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے اور ان شعرا و ادبا کو آیینہ دکھایا گیاہے جو رہتے تو مشرق میں ہیں مگر ان کا قلم مغرب کی پیروی کرتا ہے وہ بھی بغیر سوچے سمجھے ۔ نتیجہ کے طور پر ان کے یہاں وہ بات پیدا نہیں ہوپاتی جس کا تقاضا ایک عمدہ اور موثر فن پارہ کرتاہے ۔ بہرِحال ایسے لوگوں کے لیے یہ اداریہ دعوت فکر ہے ۔ مشمولات میں ‘ایک تخلیق ایک تفہیم’ کے ذیل میں پانچ شعرا کی ایک ایک نظم پر پانچ الگ الگ لوگوں کی آراء شامل کی گئی ہیں جو نظموں کی افہام وتفہیم میں معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ یاد رفتگاں کے تحت آنجہانی گوپی چند نارنگ صاحب پر خواجہ اکرام الدین اور حقانی القاسمی کی تحریریں معلوماتی اور دلپذیر ہیں ۔ نظرثانی کے زمرے میں شامل مضامین بھی فکر انگیز ہیں۔ فی الحال چار افسانوں میں محض صدیق عالم کا افسانہ ، وبا کے بعد ہی پڑھ پایا ہوں۔ ‘زندگی کے ناول سے’ کے تحت میرے زیر طبع ناول, ‘جگ بانی’ کا ایک باب بھی شامل ہے جس کے لیے میں مدیران جناب شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ باقی مشمولات زیرِ مطالعہ ہیں ۔۔۔۔ اس شاندار شمارے کے لیے دونوں مدیران کو بہت بہت مبارک

Leave a Reply to Shabbir Ahmed Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Current ye@r *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Please fill out your details. And Download Our Pdf!

[vCitaContact type=contact width=500 height=350]