31- 32nd Issue of Istifsaar

We are here with yet another humble submission. First of all we would like to thank you all for your love, affection and support.

This time we are starting an interesting series. Though it is not a new experiment but and in Urdu also it not been carried out first time but yes same has been done long back.

The experiment is titled as “ Aik Takhleeq – Aik Tafheem”, in which we are presenting the critical analysis of few poems and short stories. But the most important part is we have kept the name of the poet / stories writer hidden from the critic, now he/she has only the creation and he/she is not aware about the poet/ writer, so whatever he/she feels it’s all about the text.

Rest of the issue has been divided into 9 sub parts including Idariya, Yaad –e- RaftgaaN , Nazar-e-saani, Jaisa dekha jaisa jana ,Un suni NazmeN, Afsana aur maiN, Ghazal ki wadi se, Jahan e Deegar , Book Shelf and Istifsaar Aap ki Nazar MeiN.

As we always do, we have maintained the balance of all generations in this issue as well. In total entries pertaining to 53 different poets, writers and critics from different part of the world found place in this issue.
We are hopeful that like previous issues, this issue will also make inroad into the literary world and will be appreciated.
We thanks and appreciate the support of all the contributors, readers and entire literary fraternity.

Team Istifsaar

Regards

Click Here to Download Pdf

3 thoughts on “31- 32nd Issue of Istifsaar

  1. استفسار کا شمارہ 31-32 موصول ہوا اس مرتبہ اس شمارے کا حاصل “کسی تخلیق پر عنوان” سے متعلق بحث رہی جس میں غیر ارادی طور پر برجیش عنبر کی نظم پر صابر ، شاہد اختر کے افسانے پر سفینہ بیگم ، محترم شین کاف نظام کی نظموں پر مقصود دانش ، شبنم عشائی کی نظموں پر شافع قدوائی اپنے اپنے نظریے کے ساتھ شامل نظر آئے۔
    دوسری اہم بات یہ رہی کہ “ایک تخلیق ایک تفہیم” کے تحت لکھے گئے تجزیے اور شمارے کے دیگر مضامین میں مضمون نگار نے جب تخلیق کار یا موضوع کو جانتے ہوئے قلم اٹھایا تو ان میں وہ اپنی بات زیادہ کھل کر کہنے میں کامیاب نظر آئے۔ “ایک تخلیق ایک تفہیم” کے زیر عنوان گلزار کی نظم پر ناصر کریم کہتے ہیں کہ ‘اس پتھر کے آس پاس ہوا کی تحریریں بنتی اور مٹتی ہیں’ جبکہ نظم کہہ رہی ہے کہ ‘ہوا کچھ لکھتی رہتی ہے میرے چہرے پر’ ان مضامین میں اگر سرفراز خالد کے تجزیے کو چھوڑ دیا جائے تو بقیہ سب نے جنرل باتیں کہی ہیں سرفراز خالد نے علم و تجربے کے تعلق سے اپنے ایک الگ زاویے کے ساتھ اچھا تجزیہ پیش کیا
    ۔شاہد اختر کا افسانہ “ایک موت ایسی بھی” پر عادل رضا منصوری کے ایک شعر پر صادق آرہا ہے (جو بک شیلف میں معید الرحمان نے ‘سناٹوں کی پرچھائیوں کے نقوش’ میں کوٹ کیاہے) ۔

    ایک مقفل خواب کھلا تو یہ جانا۔
    خواب کے اندر خواب کا رستہ کھلتا ہے۔

    مبین مرزا اور اکرم نقاش کے مضامین سے شمس الرحمن فاروقی کے تخلیقی ذہن اور تنقیدی مزاج کے علاوہ ذاتیات کے بارے میں سوچنے سمجھنے کے لیے بہت کچھ ملا۔ ندیم صدیقی نے ارتضی نشاط کے منتخب اشعار کے ساتھ ان کا شخصی خاکہ بھی خوبصورتی سے ابھار دیا ایک مقام پر انھوں نے نسیم عباسی کا یہ شعر کوٹ کیا ہے۔

    اپنا شعور چاہیے، اپنے کلام میں
    غالب کا شعر میر کے دیوان میں نہیں

    مصرعہ ثانی کی روانی ایسی ہے کہ پہلی نظر میں اس طرف دھیان ہی نہیں جاتا کہ غالب کا شعر میر کے دیوان میں ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ میر غالب سے پہلے ہو چکے ہیں۔نشاط کے دو شعروں میں “قبلہء اول” کا ذکر ہے، اس سے مراد نہ جانے کیوں ‘مسجد اقصی’ لیا جاتا ہے نشاط کے شعر میں بھی اسی طرف اشارہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مکہ میں موجود موجودہ کعبہ (جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا) ہی قبلہء اول ہے ،جس کے لیے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
    “دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا”۔
    ہمارے معظم صاحب کی یاد میں لکھے معید رشیدی کے مضمون کی نمی نے کئی بار پلکوں کو نم کیا ، ” کافی کی کڑواہٹ میں کچھ کچھ غیبت کی مٹھاس نے جان ڈال دی تھی” اچھا لگا-
    خلیل الرحمٰن اعظمی پر پروفیسر غضنفر کی خوبصورت یادوں سے بھرے مضمون میں بہت کچھ اچھا ہے خاص کر یہ جملہ کہ “وہ اس طرح پڑھاتے تھے کہ طالب علم کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچنا بھی آ جاتا تھا”
    ستیہ پال آنند نے صنف ناول پر بنیادی باتوں کو زیربحث لیتے ہوئے نند کشور وکرم کے ناول
    “انیسواں ادھیائے” کو صرف ناول نہ مانتے ہوئے تاریخ اور موجودہ حالات کے مسائل سے مطابقت بتائی ، ان کا ایک معنی خیز جملہ ملاحظہ فرمائیے۔ “دھرت راشٹر اور سنجے ایک ہی مورخ کے دو سروپ ہیں”۔
    شکیل اعظمی کی غزلوں کو ہمارے دور کی غزل مانتے ہوئے پروفیسر عتیق اللہ نے ان میں تعبیر معانی کی حقیقی اور انوکھی دنیا دیکھی ، عصری آگہی سے پر متعدد منتخب اشعار کے حوالوں میں عتیق اللہ کے دو جملے ابھی تک زیر غور ہیں۔ (١)”شاعری جس تخلیقی بے چینی کی گویا تجسیم ہوتی ہے اس کی تہہ میں کوئی نہ کوئی عصبیت ضرور کارفرما ہوتی ہے”
    دوسرا جملہ “گویا وہ محسوسات جن کے تجربے سے شاعر گزرا ہے انھیں شعر میں منتقل کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ان کی ادائیگی کے ان تقاضوں کا ادراک بھی شاعر کے لیے لازمی ہے جو قاری کو جذباتی اور ذہنی طور پر شاعر کی شدتوں سے ہم آہنگ کرے” (کیا اس کا یہ مطلب نکالا جائے کہ تخلیق کار کے ذہن یا تخلیقی عمل میں قاری کے تقاضوں کا ادراک بھی ہونا چاہیے؟)
    علی احمد فاطمی نے اقبال مجید پر لکھتے ہوئے کبھی اپنے جملوں سے کہیں اقبال مجید کے اقوال سے کئی تلخ حقائق اور ادبی سچائیوں کو اجاگر کیا ۔فاطمی فرماتے ہیں کہ “عمدہ تخلیق میں محنت کے بجائے محبت اور تخلیقی عظمت ہونا چاہیے” اور “انسانوں سے پیار کئے بغیر افسانوں سے پیار نہیں کیا جاسکتا” اقبال مجید کے یہ جملے توجہ کھینچتے ہیں “ہم اپنے حدود میں رہتے ہوئے خود کو کتنا لامحدود کر سکتے ہیں”
    “ادیب کا رشتہ زندگی سے ہوتا ہے”
    “ادب کا بنیادی رشتہ نقادوں سے کم پڑھنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے” نقاد اور قاری میں فرق کرنے والا یہ جملہ ایک سوال کھڑا کرتا ہے کہ ادب کا حقیقی قاری کون ہے ؟
    شافع قدوائی نے شبنم عشائی کی نظموں کے حوالے سے نظم کے عنوان پر اپنی تخلیقی سرگرمی سے تشریحی ڈسکورس کا آغاز کیا- مختلف و معتبر حوالوں سے عنوان کو قرأت میں ایک قدغن قرار دیا۔ موضوع اساس تنقید سے قطع نظر ڈسکورس کو اس مقام تک لائے کہ “نظم انسانی وجود کی طرح متضاد آن واحد ہے جس پر کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا ہے”
    اقتدار جاوید کا ظفر اقبال کی حمایت و وکالت سے پر جو مضمون ہے اس میں ان کی اس بات سے تو اتفاق ہے کہ “تخلیق زبان کو دوبارہ خلق کرتی ہے” لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ “ادیب اور سارے فرائض کی بجا آوری کے وقت اپنے عہد کی زبان محفوظ کر رہا ہوتا ہے” تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا غالب نے جو زبان استعمال کی ہے وہ ان کے عہد کی زبان تھی دوسرا سوال یہ کہ ایک ہی عہد میں بہت سے ادیب یکسر مختلف زبان میں تخلیق کرتے ہیں تو پھر اس عہد مخصوص کی زبان کون سی ہوگی مثلا فراق گورکھپوری ، جوش ملیح آبادی اور اکبر الٰہ آبادی وغیرہ معاصر ہیں ان تینوں کی زبان قطعی الگ ہے تو پھر ان کے عہد کی زبان کون سی کہلائے گی۔
    اقتدار جاوید یہ بھی کہتے ہیں کہ “زبان باہمی موافقت تو پیدا کرتی ہی ہے یہ ایک سماجی ذخیرہ بھی ہے اس ذخیرہ کو لغت کے طور پر محفوظ رکھنا اور ضرورت کے مطابق وہاں سے الفاظ اٹھا کر کوئی تحریر خلق کرنا ادیب کا بنیادی فرض ہے” کچھ اور سطریں ملاحظہ ہوں “زیر بحث تصور زبان میں فکری نراجیت نہیں فکری استواریت ہے کہ معاشرے کو کس طرح استوار کیا جا سکتا ہے کہ وہ آنے والے زمانے کی زبان کا ساتھ دے سکے اس زبان میں لفظ نہیں معنی فکری تشکیل کرتا ہے معنوی فکری تشکیلیت لفظ ہی سے اجاگر ہوتی ہے مگر وہ لفظ کی محتاج نہیں” بہتر ہوتا اس بات کو کسی مثال سے واضح کیا جاتا کیونکہ لفظ کے بغیر معنوی فکری تشکیلیت ترسیل کیسے ہوگی ؟
    مقصود دانش نے محترم شین کاف نظام کی “سمندر” سیریز کی نظموں پر جو مضمون تحریر کیا ہے تو اس پر یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ انھوں نے نظم کے قاری ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ اپنے مطالعے،دقیق النظری اور دلیلوں سے نظم کی روح تک رسائی کی کوشش کی ہے جس کا اندازہ ان کے ان جملوں سے بآسانی ہو سکتا ہے۔
    “شاعر نے جتنے معنی دو لفظوں کے درمیان کے خلا ، رابطہ اور اوقاف سے لیے ہیں الفاظ سے نہیں”
    ” ان کی نظموں میں حیات کے مساموں کی پرتیں آہنگ سے کھلتی ہیں”
    “ان کی نظمیں ردھم کا پیکر ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌۔ اور فکری پیکر آنکھوں کے روبرو آ جاتا ہے”
    “شین کاف نظام کی نظموں کا مزاج کہنے سے زیادہ محسوس کرنے پر اصرار کرتا ہے”
    “ان کی انفرادیت اس بات سے بھی قائم ہوتی ہے کہ انھوں نے نظم کو آریائی تہذیب و ثقافت سے ہم رشتہ کیا”،
    “ان کے ہاں الفاظ کی معنویت زمینی حقائق سے بلند ہوکر فلسفیانہ طرز احساس کو اجاگر کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے”، “انھوں نے نظم کا فکری و معنوی سرا حقیقت عظمی سے جوڑ دیا اور طرز اظہار کو استعارات کے حوالے کردیا”۔آخر میں مقصود دانش نے ہیئت پسند مفکر وکٹر شکلووسکی کے تصورات سے اپنی بات کو مستحکم کیا ۔
    الطاف انجم نے علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کا نو آبادیاتی عزائم کی تکمیل اور مابعد نو آبادیاتی تجزیہ نہایت انہماک سے کرتے ہوئے آخر میں کہا کہ “زیر تجزیہ ناول روایتی بیانیہ کے برعکس ایک مخالف بیان کی تشکیل میں ایک اہم پیش رفت ہے واضح رہے کہ یہ ناول مابعد جدیدیت کے ادبی رویہ کا ایک اہم ادب پارہ ہے جس نے مہابیانیہ کو رد کرکے ایک نئے کلامیہ کی طرف اشارہ کیا ہے”
    پروفیسر صادق کے ڈرامے “اس شکل سے گزری غالب” پر صابر نے مضمون پر تاریخی فکشن سے بات شروع کرتے ہوئے اسے یونانی المیہ کی عظمت کو چھوتا ہوا محسوس کیا-
    صابر نے ہمزاد کے شرعی وجود پر ‘صحیح مسلم’ سے جو روایت پیش کی ہے تو اچھا ہوتا اگر اس حدیث کا نمبر یا باب بھی دیا گیا ہوتا۔ اپنے ٩ معروضات کے ذریعے قصیدوں کے تعلق سے مرزا غالب کے مزاج کی دورنگی پر جہاں متبسم نظر ڈالی ہے وہیں کچھ تاریخی حوالوں اور تحقیقی معلومات کے ذریعے غالب کے شعروں اور غزلوں پر بھی توجہ دلائی ہے ۔مرزا افضل بیگ اور منشی عبدالکریم کی شراب نوشی پر سوال اٹھایا۔چیت پور اور شملہ بازار کو ‘خطوط غالب’ سے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آج ان جگہوں کی حقیقت کیا ہے یہ بھی بتایا۔
    نظموں کی حصے میں محمد سلیم الرحمٰن کی دو نظمیں ‘رات۔١’ اور ‘رات ۔٢’ کے عنوان سے ہیں اور دو نظمیں بغیر عنوان کی ہیں ان نظموں کو پڑھتے ہوئے ذہن ایک مرتبہ پھر شافع قدوائی کے مضمون کی طرف منتقل ہوا اور بلا عنوان نظم جو سمندر سے شروع ہو کر ‘پیاس سے بھری ہوئی آواز’ پر پوری ہوئی اچھی لگی۔ سلیم شہزاد کی نظم “مجھے خرچ کرو” خود کو مرکز میں رکھ کر ایک مکالمہ کرتی ہوئی گریز کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔
    نظم “برفیلی اداسی” بیانیہ فضا کے ساتھ جہاں اختتام پذیر ہوتی ہے وہاں لگتا ہے کہ نظم یہاں تحریری طور پر تو پوری ہو گئی ہے لیکن معنی اور احساس کی سطح پر ختم نہیں ہوئی ہے۔جسے ہر قاری اپنی صلاحیت و استطاعت کے مطابق آگے لے جا سکتا ہے ۔
    فاروق انجینر کی نظمیں سادہ اور صاف ہیں جو کہنا چاہتے ہیں وہ پہنچ گیا ہے “خرگوش” نظم اچھی لگی۔
    برجیش عنبر کی چار میں سے تین نظموں میں یاد اور تنہائی چھائی ہوئی ہے ۔
    “تب اور اب” میں ترقی کی روشنی میں ماضی کے دھندلانے کا اشاریہ ہے۔
    “منجمد یادیں” خود کلامی ہے جس میں بھولنے کی انتہائی کیفیت امید کی تمازت سے اچانک آنسوؤں میں ڈھل کر ایک نئی کیفیت بنا رہی ہے اور نظم کے راوی کو بتا رہی ہے کہ ابھی بھی کہانی کا کچھ بچا ہے اس میں۔
    نظم “کسی کی یاد میں کب کون اپنی عمر کھوتا ہے”

    (یوں شروع ہوتی ہے)

    یہاں کوئی نہیں ہے
    بیابانوں میں بھی آبادیاں ہی گشت کرتی ہیں۔

    نظم کا عنوان ہی نظم کا آخری مصرع ہے درمیان میں اونٹ کے ذریعے سونا صحرائی منظر اکیرا ہے جو لامتناہی صبر و انتظار میں زندگی کرنے کا استعارہ ہے ۔ایک اور بات توجہ طلب ہے ۔
    لفظ ‘بیابان’ کے معنی بھلے ہی جنگل اور صحرا لیے جاتے ہوں لیکن جنگل اور اور صحرا ہم معنی نہیں ہیں ۔ اس لفظ ‘بیابان’ میں جو ‘بے آبی کا بیان’ ہے اسے سننے کی ضرورت ہے ۔ ضروری نہیں کہ جنگل یا صحرا ہی بیابان ہو ۔ جہاں بھی دور دور تک پانی کا نشان نہ ہو وہ بیابان ہے چاہے وہ کھنڈر ہو چکی آبادی ہو یا ریت کے نیچے دبی بستی یا پھر جس طرح آج گشت کرتی ہوئی گھنی آبادی میں آدمی کی آنکھ کا پانی مر چکا ہے وہ بھی تو بے آبی ہی کا بیان ہے ۔اونٹ اور بے آبی کی مناسبت سے نظم کے یہ مصرعے متاثر کرتے ہیں

    نمی اب نام کو ملتی کہاں ہے ان فضاؤں میں
    ہوا کے ہونٹ سوکھے ہیں ۔

    “کون جانے” میں شاعر ایک ناظر ہے۔ اس نظم کی خوبی یہ ہے کہ نظم کی قرأت خود کلامی یا بیانیہ دونوں لہجوں میں کی جاسکتی ہے۔ صابر کی نظمیں خارجی موضوعات پر مبنی ہیں ۔ نظم “ہائی ریزولوشن ڈرون کیمرہ” بے بسی اور فرار کے درمیان حالات حاضرہ کی سفاکی کا بیان ہے تو “دو محرابیں” دو پیڑھیوں کے دیکھنے کے فرق کو عیاں کر رہی ہے۔ “گرانی” میں ایک ایسی کیفیت ہے جو بتا رہی ہے کہ حالات بدلنے پر خیالات کس شدت سے بدل جاتے ہیں۔ “شو کیش” کے ذریعے خواب اور حسرت کےدرمیان دکاندار کی چالاکی بتانے اور اصول بنانے میں نظم کامیاب ہے ۔ اگلی نظم “حفاظت” کے نام پر تحفظات کی روشنائی سے لکھی جانے والی عبارتوں کا عیاں کرتی اور راوی کی شکل میں آج کے آدمی کی بے احتجاجی کو اجاگر کر رہی ہے۔ فیضان الحق کی نظم “رنگ محبت” کا ایک لفظ “رنگ” واحد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہوا ایک مجرد رنگ ، مجسم خیال کے گمان تک جا پہنچتا ہے۔
    “بازیافت” نظم کے اس مصرعے “یہ مٹی سب دبائے جا رہی ہے” پر پوری ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں پر بازیافت ہو جاتی ہے مٹی سے مٹی تک کا سفر پورا ہو جاتا ہے اس مصرع کے بعد جو کچھ ہے وہ ایکسٹینشن‌ ہے۔
    افسانوں میں عبدالصمد نے افسانہ “کتبہ” میں علامتی پیرایہ میں اپنی ‘بغیر پہچان کی شناخت’ کے انجان بچوں کے ہاتھوں میں پڑ جانے پر پہچان کو محفوظ مان کر اپنے عہد کو آئینہ کر دیا۔
    حبیب کیفی کے افسانے کی
    “تمنا خانم” دو لفظوں کے معنی سے بنی تمنا خانم یا تو خاندانی عورت نہیں ہے یا پھر افسانہ نگار نے خاندانی عورت کو الگ معنی دینے کی کوشش کی ہے جس میں “تمنا خانم” دو لفظوں سے نہیں بلکہ ‘حرفوں سے بنی عورت’ ہے جو ایک خاندانی عورت کے معنی کو کھا گئی۔ افسانے کے کئی منظر ڈرامائی ہیں اس افسانے میں مزے کی بات یہ ہے کہ قاری افسانہ پڑھتے پڑھتے آگے کے واقعات خود بخود لکھتا جاتا ہے ۔
    اسلم سلازار کے افسانے میں بھیگے ہوئے لوگوں کا اصل چہرہ اور پہچان غائب ہے جو آج کی دنیا کے آدمی کا شناخت نامہ ہے۔ منیر سورتی کا افسانہ “کوزہ گر” کسا ہوا، زبان اچھی اور واقعات فطری محسوس ہوئے۔
    وسیم عقیل شاہ نے “بجھے ہوئے دیے” میں بتایا کہ آکاش کے پاپا بھی “کھول دو” کی سکینہ کی طرح اپنے ہم مذہبوں کے تشدد کا شکار ہوئے اور آکاش کے گھر کے “بجھے ہوئے دیے” دیوالی کی روشنی اور پٹاخوں کے شور پر بھاری پڑ رہے تھے۔
    توصیف بریلوی کا افسانہ “یخ” نہایت خوبصورت جملوں کی روانی میں قاری کو بہا لے جاتا ہے جس میں آدمی کی مکاری “زنابالصبر” کے نفسیاتی راستے تلاش کرتی ہے تو وہیں ایک ایسی لڑکی کا بیان ہے جو خود نا شناسی کا شکار ہے وہ خود کو asexual community کا ممبر جانتی ہے مگر ایک شاطر شکاری کی شہوانی آگ سگریٹ میں سمٹ کر لڑکی کے اندر شہوت کو جگانے کی چابی بن جاتی ہے اور برفیلے تالے کو کھول دیتی ہے ۔
    غزلوں میں سیفی سرونجی اور مرغوب اثر فاطمی کے کچھ مصرعے اچھے لگے ، ملکہ نسیم صاحبہ کی “غالب کی نرسری” والی غزل اور شاہ رخ عبیر کی “نکلے” ردیف والی غزل اچھی لگی۔ سب سے زیادہ صاد کا نشان شکیل اعظمی کے شعروں پر لگانے پڑے ۔
    شمارے میں شامل جسنتا کیٹاکیکی کی چار نظمیں جو استوتی اگروال نے ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم ذہن و احساس پر اثر انداز ہوتی ہے ایک مصرع کوٹ کیے بغیر نہیں رہا جا رہا “سرزمین سے جڑے رہنا ہی آدیواسی ہونا ہے”
    نظم “حاشیے پر انسانیت” تو گریٹا تھمبرگ کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
    عادل رضا منصوری کے شعری مجموعے “سناٹے کی پرچھائیں” پر بک شیلف میں معیدالرحمان کا تبصرہ بھی قدرے بہتر ہے۔

  2. نخلستان میں ابر نو بہاراں کی لطافتوں سے معمور، خوش کن عطر بیز تخلیقی خوشبوؤں کا استعارہ، منفرد اور جدید ترین موضوعات پر مبنی مضامین کا گوشوارہ، ندرت بیان کی دلکشی اور ذہن کے دریچوں پر نئے انداز سے دستکیں دینا “استفسار” کا خاصہ ہے۔ ہر شمارہ اپنے قاری سے مکمل یکسوئی و انہماک کے ساتھ مطالعے کا متقاضی ہوتا ہے ، کہ ہر جملہ معنی خیز اور حرف حرف توجہ کا طالب ہے۔ نئی اختراعی صلاحیتوں سے پر نئی تخلیقات، نئی دریافت اور نئے طرز کے مشمولات کا گویا ایک دبستان آباد ہے۔ غرض کہ جدیدیت، مابعد جدیدیت، معاصر ادبی رویوں اور جدید تر رجحانات کے خزینے ہیں جو لفظوں کے پیراہن میں ڈھل گئے ہیں۔ سرورق تجریدی مصوری کا عمدہ نمونہ ہے۔ “اداریہ” پر مغز و پرفکر ہے۔ شمارہ کیا ہے، گویا گنجینۂ معنی کا طلسم ہے۔ شاعری کے نئے تجربے، افسانوں کے گنج ہائے گراں مایہ، مضامین کا نو آبادیاتی جزیرہ، عنوانات کی نیرنگی دوران مطالعہ قاری متعجب ہے کہ مطالعے کا سلسلہ کب تھمے کہ انہماک ٹوٹے اور خواب ادبستان کے سحر سے آزاد ہوں ! لفظوں کے سنہرے جال، تخلیقی ہنر مندیوں کے یہ سلیقے، اشعار و اظہار کی یہ وارفتگی، اس پر جدید ناقدین و ماہرینِ علم و فن کے تاثرات “کہرے کی پرچھائیں” کی قدر و منزلت، نفسیاتی و اذہانی گرہ کشائی، گویا ادب کا ایک دبستان کھل گیا ہے، جو بصیرت و بصارت، ذہانت و ذکاوت، فصاحت و بلاغت سے آراستہ ہے۔ خوشا نصیب کہ —آپ اراکین “استفسار” نے دل سے نکلے میرے تاثرات کو استفسار کی زینت بنایا۔
    ممنونم، مشکورم —!
    ایک تخلیق — ایک تفہیم جدید تر تخلیقی تجریے کے نئے افق کا اشاریہ ہے۔ (پتھر کی طرح بیٹھا ہوں ساحل پر، گلزار)، (کتابیں)، (گندمی آواز)، (چیختے سناٹے)، (کمرہ) اور (ایک موت ایسی بھی) ان کی قرأت کے بعد صرف اتنا کہنا چاہونگی کہ “تخلیقات کی عمدگی کا حق تبصرے کی شائستگی اور اظہار خیال کی لطافتوں نے ادا کر دیا ہے”۔ “یاد رفتگاں” ، “جیسا دیکھا جیسا جانا” اور بالخصوص “نظر ثانی” کے عنوان سے مندرج تمام تر مضامین عنوان اور پیشکش کے اعتبار سے بطور خاص (سمندر، شارک اور شین کاف نظام) کے عنوان سے درج مضمون منفرد بھی ہے اور معلوماتی بھی، انکے عمیق مطالعے سے یہ محسوس ہوتا ہے گویا ادب سمندر سے بیش بہا گہر چن چن کر لفظوں کے قالب میں ڈھال دیۓ گئے ہیں، جن میں مفاہیم و معلومات کی ایک دنیا آباد ہے۔ افسانوں، نظموں اور غزلوں (نیز جہان دگر) کے باب میں رنگ محبت، افسانہ (کتبہ، تمنا خانم، کوزہ گر اور یخ ، جانب دل، گرانی، کون جانے کس لیے ، بجھے ہوئے دیۓ، قاتل، برفیلی اداسی، رات) غزلوں میں سیفی سروجنی، ملکہ نسیم، تری پرادی، شاہ رخ عبیر، مصحف اقبال توصیفی، جلیل عالی، مرغوب اثر فاطمی، شکیل اعظمی، دور حاضر کے شعری رجحان کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سنیتا کیر کٹیا کی نظموں کا بہترین ترجمہ استوتی اگروال نے پیش کیا ہے۔ بک شیلف کے حوالے سے جناب عین تابش اور معید الرحمن کے علاوہ سرورق کی پشت پر درج (سناٹے کی پرچھائیں) پر جناب ستیہ پال آنند، علی محمد قریشی، عتیق اللہ، شین کاف نظام اور شافع قدوائی کے ذریں کلمات شعر و سخن کے باب میں (سناٹے کی پرچھائیں) کی حرف حرف گرہ کشائی، نفسیاتی کیفیات کی تشریح کا حق ادا کر رہے ہیں۔ دلی مبارک باد — اس ضمن میں آپ اراکین “استفسار” کے حسن انتخاب کی داد نہ دینا ادبی حق تلفی ہوگی۔

  3. استفسار ؛ کمال کا ادبی رسالہ :
    جے پور ، جِسے لوگ اردو کی بستی نہیں سمجھتے ، سے ایک کمال کا ادبی رسالہ ’ استفسار ‘ دو کمال کے ادیبوں شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی ادارت میں شائع ہوتا ہے ۔ یہ رسالہ جے پور کو اردو تہذیب سے جوڑتا بھی ہے اور اردو کی بستی بھی بناتا ہے ۔ ’ استفسار ‘ کی تازہ اشاعت ( شمارہ نمبر 32 – 31 ) سابقہ اشاعتوں ہی کی طرح غیر معمولی ہے ۔ اس شمارے میں مدیران نے ’ ایک تخلیق – ایک تفہیم ‘ کے عنوان سے ایک منفرد تجربہ کیا ہے ، چھ شعراء کی ایک ایک تخلیق کا ، چھ الگ الگ تجزیہ نگاروں سے تفہیم کرانے کا ۔ اس تجربے کی دلچسپ بات تجزیہ نگاروں سے تخلیق کاروں کے نام مخفی رکھنا تھا ، تاکہ تجزیہ نگار کسی نام سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی بات کہہ سکیں ۔ تخلیق کار گلزار ، فاروق انجینیئر ، شہرام سرمدی ، برجیش عنبر ، حماد نیازی اور شاہد اختر ہیں ۔ اور تجزیہ نگار ناصر کریم ، سرفراز خالد ، عبدالسمیع ، صابر ، سلیم شہزاد اور سفینہ بیگم ہیں ۔ ایک گوشہ یاد رفتگاں کے عنوان سے ہے جس میں مرحوم شمس الرحمن فاروقی پر مبین مرزا اور اکرم نقاش کے دو یادگار مضامین ہیں ۔ محترم ندیم صدیقی کا ، شہر ممبئی کے ایک لاجواب شاعر ، صحافی اور نیک سیرت انسان مرحوم ارتضی نشاط پر یادوں سے بھرا ایک وقیع مضمون ، اور راجستھان اردو اکادمی ، جو اب ختم ہو چکی ہے ، کے سکریٹری سید معظم علی مرحوم پر معید رشیدی کا مضمون ، دونوں اس گوشے کو یادگار بناتے ہیں ۔ ’ نظر ثانی ‘ کے تحت مختلف ادیبوں اور شاعروں کی ادبی کاوشوں پر آٹھ اہم مقالے ہیں ، لکھنے والے ہیں ستیہ پال آنند ، عتیق اللہ ، علی احمد فاطمی ، شافع قدوائی ، اقتدار جاوید ، مقصود دانش ، الطاف انجم اور صابر ۔ نظموں ، غزلوں اور افسانوں کا ہمیشہ کی طرح بہترین انتخاب ہے ۔ اس شمارے میں ممبئی کے نوجوان افسانہ نگار وسیم عقیل شاہ اور محترمہ منیرہ سورتی کے افسانے شامل ہیں ، دونوں کو مبارکباد ۔ استوتی اگروال ان دنوں خوب ترجمہ کر رہی ہیں ، اس شمارہ میں ان کی ہندی سے ترجمہ کردہ جھارکھنڈ کی ادیبہ سنتا کیرکیٹا کی نظمیں شامل ہیں ۔ ترجمہ لاجواب ہے ۔ عادل رضا منصوری کے شاندار شعری مجموعے ’ سناٹے کی پرچھائیاں ‘ پر عین تابش اور معید الرحمن کے دو اہم تبصرے شمارے کے آخر میں ، خطوط سے قبل ، شامل کیے گیے ہیں

Leave a Reply to Dr. Rizwana Erum Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Current ye@r *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Please fill out your details. And Download Our Pdf!

[vCitaContact type=contact width=500 height=350]